عبداللہ شاہ غازی (عربی: عبد الله شاه غازى) کراچی، سندھ، پاکستان کے نہایت معروف و برگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں۔ آپ کا مزار کلفٹن، کراچی میں واقع ہے۔
حالاتِ زندگی
ایک مقامی تاریخ دان سہیل ظہیر لاری کے مطابق، عبداللہ شاہ غازی امام محمد نفس الزکیہ کے فرزند تھے اور عبداللہ شاہ غازی اہل بیت میں سے تھے۔
آپ
کی مدینہ میں 720ء میں ولادت ہوئی اور آپ سندھ میں تقریباً 760ء میں تشریف لائے اور اپنے ساتھ بہت زیادہ مقدار میں گھوڑے لائے تھے جو اپ نے کوفہ، عراق سے خریدے تھے۔
بعض روایات کے مطابق عبداللہ شاہ غازی کو خارجیوں نے شہید کیا تھا جو جنگل میں چھپے ہوئے تھے۔ اور شہادت کے بعد اپ کی لاش کو اپ کے جانشین کراچی لے آئے تھے اور اپ
کو ایک ٹیلا نما پہاڑ موجودہ کلفٹن، کراچی میں دفنا دیا تھا۔اور اپ کے بھائی مصری شاہ جو کے اپ کے ساتھ شہید ہوئے تھے ان کو موجودہ کراچی ڈیفینس میں دفنایا گیا تھا۔
ترکہ
کراچی کے کچھ شہریوں کا ماننا ہے کہ عبداللہ شاہ غازی کی وجہ سے کراچی سمندری طوفان سے محفوظ ہے۔اور اس پاک ہستی کی وجہ سے بحر ہند سے کبھی کوئی طوفان کراچی سے نہیں ٹکرایا
سلسلہ نسب
آپ کا شجرہ سید ابومحمد عبداللہ العشتر بن سید محمد ذوالنفس الزکیہ بن محمد سید عبداللہ بن سید حسن مثنی بن سیدنا امام حسن بن سید نا امیرالمومنین علی بن ابی طالب سے ملتا ہے۔حضرت سید حسن مثنی کی شادی فاطمہ صغری بنت سید امام حسین سے ہوئی اسی وجہ سے آپ حسنی حسینی سید ہیں۔
کرامات
حضرت عبدللہ شاہ غازی کی سب سے بڑی کرامت سمندر کے قریب مزار کے نیچے میٹھے پانی کا چشمہ ہے جو آپ کی چلہ گاہ میں بھی موجود ہے۔ لوگ دور دور سے آتے ہیں اور یہ پانی پی کر شفا یاب ہوتے ہیں۔ آپ کے مزار پر آنے والے زائرین میں ہر مذہب کے افراد شامل ہوتے ہیں۔ زائرین کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں آکر دل کو تقویت ملتی ہے اور مرادیں پوری ہوتی ہیں۔
تاریخ
عبداللہ شاہ غازی کی کنیت ابو محمد اور لقب العشتر ہے۔ آپ کی ولادت واقعہ کربلا کے اٹھائیس سال بعد سن اٹھانوے ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور یہ بنی امیہ کی حکومت کا آخری دور تھا۔ آپ سن ایک سو اڑتیس ہجری میں سندھ تشریف لائے۔
عباسی دورِ حکومت کے زمانہ جنگ میں عبداللہ شاہ غازی کو سن ایک سواکیاون ہجری میں شہید کردیا گیا آپ کے خادمین اور عقیدت مندوں نے آپ کو یہاں موجود پہاڑی پر دفن کردیا جہاں آج بھی آپ کا مزار موجود ہے۔


0 comments: